خیبرپختونخوا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
خیبرپختونخوا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ, مئی 25, 2013

The youth leadership!!!

The question of youth leadership is coming from the day it has been known that PTI is going to make government in KPK. People not only from the opposition parties in KPK like JUI and PMLN but also people from within PTI are asking such questions that 'why not a younger CM in the province?' or 'where is the promise of youth leadership?' etc.

Pakistan Tehreek e Insaf had promised representation of youth in all forums and it has more than fulfilled it by introducing about 40 percent of its candidates under the age of 40. The winning candidates like Mr Murad Saeed from Sawat for national assembly and Mr Atif Khan who was seen as good candidate for CM seat in KPK by many PTI supporters are couple out of many examples. Many other candidates who could not win the election still grabbed huge amount of votes and will possibly make their place in subsequent parliaments hopefully if the continue their efforts.

But promise of youth representation does not necessarily mean youth leadership in parliaments as well. It is known to everybody that if PTI had won majority in national assembly then Imran Khan would have been nominated as Prime Minister of Pakistan. Imran Khan is not belong to youth and so can be said for Pervez Khattak and so this discussion does not make any sense at all. 

بدھ, مئی 22, 2013

پاکستان تحریک انصاف اور الیکشن ۲۰۱۳ ۔ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا ۔ آخری حصہ

4 روزگار

روزگار کی فراہمی کسی بھی حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں امن کا فقدان اس معاملے کو اور بھی گھمبیر بناتا ہے اور سیکورٹی کے مسئلے کو حل کیے بغیر اس کو حل نہیں کیا جا سکتا۔

سب سے زیادہ کرپشن نوکری دینے کے معاملے میں ہوتی ہے اور جب کوئی پیسے دے کر روزگار حاصل کرتا ہے تو وہ اس روزگار کا حق بھی ادا نہیں کرسکتا اور الٹا مزید کرپشن کا باعث بنتا ہے۔ 

حکومت کی سب سے پہلی کوشش میرٹ پر اور کرپشن سے بے داغ سرکاری نوکریوں کی تقسیم ہے۔ جب لوگوں کو میرٹ پر اور بغیر کسی کو پیسے دیے نوکری ملے گی تو یہ بذات خود حکومت کی نیک نامی کا باعث بنے گی۔ دوسرا ایسے لوگ جانفشانی اور خلوص سے حکومتی فرائض ادا کریں گے تو حکومت کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ 

سمندر پار پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ کے مواقع دینے سے بھی نوکریاں پیدا ہونگی۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے بڑے بڑے ادارے قائم کیے جانے چاہئیں۔ ان اداروں میں گورنمنٹ کے بڑے حصے کے باوجود انہیں کلی طور پر پرائیویٹ کنٹرول میں دیا جانا چاہئے۔ اسکی مثالیں پاکستان میں پہلے سے موجود ہیں۔ 

آئی ٹی سیکٹر میں چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کر کے بہت ساری نوکریاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ آئی ٹی سیکٹر میں یہ آسانیاں دینا حکومت کے لیے کوئی بڑا کام بھی نہیں ہوگا۔ پاکستان بھر کی اچھی یونیورسٹیوں کے گریجویٹس کو اور پہلے سے مختلف سافٹویر کمپنیوں میں نوکریاں کرنے والوں کو اپنا کاروبار چلانے کے لیے جگہ کی فراہمی، براڈبینڈ کنیکشن، ہوسٹنگ سروسز اور کمپیوٹنگ مشینری ایک مقررہ مدت کے لیے فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ان کو مینٹرنگ کی سہولت اور مارکیٹنگ کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔ ان کمپنیوں میں سے دس فیصد کی کامیابی بھی نوکریوں کے معاملے میں متوقع نتائج حاصل کرسکتی ہے اور سال بھر میں کسی ایک کمپنی کی بھی انٹرنیشنل مارکیٹ میں کامیابی ایک مثبت مسابقت کو جنم دے سکتی ہے۔






پاکستان تحریک انصاف اور الیکشن ۲۰۱۳ ۔ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا ۔ تیسرا حصہ

3 صحت

صحت نا صرف خیبرپختونخوا کا بلکہ پاکستان کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ صحت کی وزارت کے لیے ایک بہت ہی مستعد اور سمجھدار وزیر کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا تعلیم یافتہ شخص جو نا صرف صحت کے مسائل سمجھتا ہو بلکہ پبلک ایڈمنسٹریشن کا تجربہ بھی رکھتا ہو کو اس پوسٹ پر تعینات کرنا چاہئے۔ 

وبائی امراض کو پھیلنے سے پہلے ہی کنٹرول کرنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا حکومت وقت کی زمہ داری ہوتی ہے۔ موسموں کے بدلنے اور پہلے سے معلوم خطروں کے لیے وقت پر احکامات صادر کرکے حکومت بہت سے مسائل کو ابھرنے سے پہلے ہی انکا قلع قمع کرسکتی ہے۔ موسم گرما کے ساتھ ہی سیلاب کا خطرہ سر پر منڈلانے لگتا ہے جو اور تباہی کے ساتھ مختلف وبائی امراض کا باعث بھی بنتا ہے۔ حکومت کے قیام کے ساتھ ہی اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

ماں اور بچے کی صحت کا خیال رکھنا ایک بہتر اور صحتمند معاشرے کے قیام کی پہلی کڑی ہے۔ ماں اگر صحتمند ہوگی تو بچوں کی پرورش اچھے طریقے سے کرسکے گی اور پھر وہ بچے بڑے ہو کر ایک صحتمند معاشرہ کا حصہ بن سکیں گے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے پروگرام کو وسعت دینا اور ماں اور بچے کی صحت کے بارے میں مطلوبہ تعلیمی مواد پیدا کرنا اور اسے سرکاری اہلکاروں، اخبارات اور ٹی وی کے زریعے عوام تک پہنچانا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ 

پاکستان میں پائی جانے والی زیادہ تر امراض کا باعث صاف پانی کی کمیابی ہے۔ صاف پانی کے فلٹر کو عوام تک سستے داموں پہنچانے کا بندوبست کرنا چاہئے کیونکہ صاف پانی کا استعمال صحت کی مد میں دوسرے اخراجات کو کافی حد تک کم کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ صاف پانی بارے آگہی پھیلانے کے لیے بھی حتی المقدور کوشش کرنی ضروری ہے۔

صحت کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بہت ضروری ہے۔ ایک مرکزی پیشنٹ ریکارڈ سسٹم وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے کسی سسٹم کی موجودگی سے ہی بہت سارے پیچیدہ امراض اور مسائل کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے اور نتیجتا صحت کی مد میں بہت سے بے جا اخراجات سے بچا جا سکتا ہے۔

جاری ہے۔


پیر, مئی 20, 2013

پاکستان تحریک انصاف اور الیکشن ۲۰۱۳ ۔ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا ۔ دوسرا حصہ

2 تعلیم

تعلیم خیبر پختونخوا کی حکومت کے لیے دوسرا سب سے بڑا چیلنج ہوگا اسکی وجہ ایک تو صوبہ کی مخصوص صورتحال ہے دوسرا پی ٹی آئی کی انقلابی سوچ ہے جس نے پاکستان میں تعلیم کے بنیادی اصول کو تبدیل کرنے کا تہیا کیا ہے۔ 
صوبائی حکومت کے لیے سب سے اہم کام تعلیم کی مد میں خزانے کا منہ کھلوانا ہے۔ اس کے لیے ایک کام تو بجٹ کے دوران تعلیم کے لیے زیادہ پیسوں کا اجراء ہے دوسرا شاید کوئی نیا ٹیکس لگا کر وسائل پورا کرنا پڑے۔  
خیبر پختونخوا میں عورتوں کی تعلیم کو لے کر کچھ مسائل صوبائی حکومت کو درپیش ہونگے۔ لیکن اس کا ایک حل تو یہ ہے کے زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کے تعلیمی مدارس کھولے جائیں۔ گرلز کالجز اور ویمن یونیورسٹیوں کی زیادہ تعداد ہی مستقبل میں گرلز ہائی اور پرائمری اسکول کی کمی کو پورا سکتی ہے۔ عورتوں کی معیاری تعلیم پر توجہ دینے کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ غیر معیاری تعلیم اصل میں تعلیم کی کمی سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ معاشرے میں اس خیال کا بن جانا کے عورتوں کی تعلیم سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بہت حد تک غیر معیاری تعلیم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 
پی ٹی آئی نے سائنس اور باقی مضامین کے لیے مادری زبان کی شرط عائد کی ہے۔ اگرچہ کسی بھی معاشرے کی کامیابی کے لیے افراد کی تعلیم انکی اپنی زبان میں ہونا ضروری ہے لیکن میرے خیال میں پی ٹی آئی کو اس چیز کو مرحلہ وار لاگو کرنا چاہئے۔
اس کی سب سے اہم وجہ تو یہ ہے کہ دنیا میں وہ سارے ممالک جو تعلیم اپنے مقامی زبان میں دیتے ہیں جو کہ انیسویں صدی میں غلام رہنے والے ممالک کے علاوہ سبھی ہی ہیں وہ بھی انگریزی کو ایک رابطے کی زبان کے طور پر ضرور پڑھاتے ہیں۔ ان ممالک میں انگریزی پڑھانے کا معیار اتنا اچھا ہوتا ہے کے یہاں بچے چھوٹی جماعتوں سے ہی انگریزی فرفر بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ انگریزی پر یہ عبور انکو دنیا میں ابھرتی ہوئی مسابقت میں آگے رکھتا ہے تو اپنی مقامی زبان میں سائنسی اور دوسرے مضامین پڑھنے کی وجہ سے وہ ان اسباق کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اپنے ملک و قوم کے لیے باعث افتخار بنتے ہیں۔ جبکہ یہی چیز ہماری موجودہ تعلیمی سیٹ اپ میں نہیں پائی جاتی۔ ہمارا معیار تعلیم خاص طور پر ایلیمنٹری لیول پر بہت ہی برا ہے اور ہمارے بچے کافی دیر تک انگریزی پڑھنے کے باوجود بولنے اور اچھی طرح سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو تعلیمی انقلاب انگریزی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینے سے شروع کرنا ہوگا۔ کچھ سالوں کے بعد ہی وہ وقت آئے گا جب حکومت مادری زبان کا قانون لا سکتی ہے تاکہ ابھی جو پرائیویٹ ادارے تعلیم دے کر حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں وہ سلسلہ بھی درہم برہم نا ہوجائے۔ 
دوسری وجہ اس مرحلہ وار تبدیلی کی یہ ہے کہ یہ کام صرف ایک صوبہ میں نہیں کیا جاسکتا۔ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے وفاقی اداروں میں بھی نوکریاں کرنی ہوتی ہے اور انگریزی میں عبور کو گارنٹی کیے بغیر موجودہ سیٹ اپ کو تبدیل کرنا صوبہ کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ 
سکینڈے نیویا کی مثال اس معاملے میں بہت بہتر ہے جہاں اسکول جانے والا ہر طالبعلم انگریزی سے آشنا ہے۔ جبکہ دوسری طرف حال یہ ہے کہ یہاں طالبعلم  ماسٹر لیول کے تحقیقی مقالے بھی اپنی مقامی زبان میں لکھتے ہیں۔ 

تعلیم کو ہمارے ملک میں صرف اور صرف نصابی یا غیرنصابی کتابوں کے مطالعہ تک ہی محدود کردیا گیا ہے جو کہ تعلیم کا ایک مقصد یعنی علم کا حصول تو پورا کرتا ہے لیکن طالبعلم کو علم کی اصل روح یعنی علم کی پڑتال کرنے کی جستجو سے محروم رکھتا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت اگر تعلیم کے شعبے میں انقلاب کی خواہشمند ہے تو اس کے لیے طالبعلموں کے تبادلہ کے پروگرام ضرور بنانے ہونگے۔ تبادلوں کے یہ پروگرام صوبائی یا ملکوں کی سطح پر تو شاید ابھی ممکن نا ہو لیکن بین الاضلاع تبادلے کے پروگرام ضرور بنائے جاسکتے ہیں۔ جماعت نہم سے لے کر بارہویں جماعت تک کے طلباء کے لیے ایسے موقعے فراہم کیے جاسکتے ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر وہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں اپنی چھ ماہ سے ایک سال کی تعلیم پوری کرسکتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسے طلباء نا صرف تعلیم کے حصول میں زیادہ آگے بڑھتے ہیں بلکہ انکی شخصیت میں بھی اسکا مثبت اثر ہوتا ہے جوکہ انہیں نا صرف اچھا شہری بناتا ہے بلکہ یہ دوسروں کے مسائل کو بھی بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔

تعلیم کا بہتری کا زکر آتا ہے تو ساتھ ہی ملک میں پھیلے ہوئے مدارس کا زکر بھی ساتھ آتا ہے۔ یہ مدارس ملک کے طول و عرض میں موجود ہیں اور کسی بھی دوسرے تعلیمی مراکز کی طرح انکے بھی اچھے اور برے پہلو ہیں۔ ان مدارس میں بھی اسی طرح اصلاحات کی ضرورت ہے جس طرح باقی تعلیمی مراکز میں لیکن ان کا معاملہ باقیوں کی نسبت کافی حساس ہے۔ مدارس میں کسی بھی اصلاحات کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ انکے مقابل دوسرے تعلیمی مراکز کے تعلیمی معیار کو اتنا اونچا کر دیا جائے کہ ان مدارس کے پاس کوئی اور آپشن ہی موجود نا رہے سوائے اس کے وہ اپنے نظام اور نصاب پر نظر ثانی کریں۔ عوام اپنے بچوں کا وقت اور سرمایہ ایسے کسی نظام پر ضائع نہیں کریں گے جو ان کے بچوں کو مناسب تربیت نہیں دے سکتا۔ مدارس کے معاملے میں اس احتیاط کی بہت زیادہ ضرورت اس لیے بھی ہے کہ انکی ایک بڑی تعداد JUI کے پلیٹ فارم سے چلائی جاتی ہے اور پی ٹی آئی کے خلاف منفی پروپیگنڈا کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے جس سے ابھی بچنے کی ضرورت ہے۔

جاری ہے۔

اتوار, مئی 19, 2013

پاکستان تحریک انصاف اور الیکشن ۲۰۱۳ ۔ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا

الیکشن 2013 میں اب تک کے نتائج سے جو حکومتوں کی شکل ابھری ہے وہ میرے نزدیک کافی خوش آئند ہے۔ PMLN کی مرکزی اور پنجاب میں صوبائی حکومت کی ضرورت اس لیے تھی کے ان تجربہ کار لوگوں کی قابلیت کو ایک دفعہ کھل کر عوام کے سامنے آنے کا موقعہ ملے گا اور مرکزی اور صوبائی دونوں حکومت کے ساتھ یہ حجت تمام ہوجائے گی۔  اگلے الیکشن اگر کارکردگی کی جگہ ترجیحات پر لڑے جائیں تو یہ ہم سب کے لیے بہتر ہوگا۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں حکومت قائم کرنے سے پی ٹی آئی کو بہت فائدہ ہوگا۔ اس کا ایک رخ تو اپنی قابلیت، ترجیحات اور خلوص نیت کے اظہار کے لیے ممد ثابت ہوگا تاکہ عوام کا دل جیت کر اگلی دفعہ مرکزی حکومت بنانے کے لیے مینڈیٹ حاصل کیا جائے۔ جبکہ دوسری طرف  خیبر پختونخوا کی حکومت پی ٹی آئی کو اپنے انقلابی خیالات کے آزمانے کے لیے ایک عظیم موقعہ ثابت ہوگی۔ چونکہ صوبائی حکومت کچھ حد تک اپنے اختیارات میں محدود ہوتی ہے اس لیے انتخابات کے وقت کیے گئے وہ وعدے جن کو صرف مرحلہ وار ہی نافذ کیا جاسکتا ہے کو ٹالا جا سکتا ہے تاکہ ان کو ان کے صحیح وقت پر پورا کیا جا سکے۔ 
صوبائی حکومت کی زمہ داریاں اور پی ٹی آئی کے عوام سے کیے ہوئے وعدوں کو جمع کریں تو لسٹ کچھ اس طرح کی بنتی ہے۔ 1 امن و امان 2 تعلیم 3 صحت 4 روزگار۔

1 امن و امان
یہ پاکستان کا اور خاص طور پر اس صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہوجاتی ہے کہ امن و امان کے بغیر آپ باقی سارے مسائل میں سکت کے باوجود اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ پی ٹی آئی نے امن و امان سے متعلق لائحہ عمل پہلے ہی دیا ہوا ہے اور اب صرف اس پر عمل کروانے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا میں داخلی سلامتی افغانستان میں جاری جنگ سے ماورا ہوکر نہیں سوچی جاسکتی اور اسی طرح پاکستانی طالبان کا معاملہ مزاکرات سے حل کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ 
نیٹو سپلائی مرکزی حکومت کے معاہدوں کے زیر اثر چلتی ہے اور اس پر کسی بھی طرح کا ایکشن مرکزی حکومت کے لیے ہی چھوڑ دینا چاہئے۔ اگر یہ سپلائی جاری رہتی ہے تو اس کی حفاظت کا بندوبست بھی کرنا ہوگا کیونکہ حکومت کی رٹ کو برقرار رکھنا امن و امان قائم رکھنے کی پہلی شرط ہے۔ یہ سپلائی امریکہ کے افغانستان سے باہر نکلنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ 
خیبر پختونخوا میں ڈرون حملے خال خال ہی ہوئے ہیں لیکن امریکہ کو یہ باور کرانا کے اب  خیبر پختونخوا کی سرزمین  پر ڈرون یا بن لادن جیسا حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا بہت ہی ضروری ہے۔ قبائلی علاقوں میں آنے والے ڈرون کا معاملہ مرکزی حکومت پر چھوڑ دینا چاہئے لیکن ساتھ میں ان پر بہت زیادہ پریشر بھی ڈالنا چاہئے۔ نواز شریف کی حکومت اس پریشر کو استعمال کر کے امریکہ سے ڈرون حملوں پر سخت موقف لے سکتی ہے جسکا فائدہ بہرحال پاکستان عوام کو ہی ہوگا۔  اس بات کا اہتمام کرنا ہوگا کے ڈرون کے انتظار اور پھر اپنا جواب دینے کی بجائے امریکہ سے پہلے ہی جواب طلبی کی کوشش کی جائے۔ امریکہ نے ایک پالیسی بیان جاری کیا ہے جس میں اس نے ڈرون کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ میرے خیال میں خیبر پختونخوا کے لیے اس پالیسی کو بدلوانے کی کوشش کرنا کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے۔ اس لیے کے امریکن ایمبیسی کے بہت سے لوگ اپنے معاملات کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا آتے ہیں اگر صوبائی حکومت انکے داخلہ پر تب تک پابندی عائد کردے جب تک امریکہ اپنی تبدیل شدہ پالیسی کا اعلان نہیں کرتا تو اس معاملے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان فوج کے تعلقات امریکہ سے کیسے ہیں اس عمل سے اس کا بھی پتا چل جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ فوج اگر چاہے بھی تو اس کام میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔
شدت پسندوں سے مزاکرات کے لیے سب سے پہلے حکومت کو ان اصول کو شائع کرنا ہوگا جسکی بناء پر طالبان یا کسی بھی دوسرے شدت پسندوں سے مزاکرات کیے جاسکتے ہیں۔ ان اصول میں میرے خیال میں سب سے پہلے اس نکتہ کو رکھنا ہوگا کہ شدت پسندوں کو ہتھیار ڈالنا ہوگا اور کسی بھی طرح کے دھماکوں اور حملوں کو جاری رکھنا ان مزاکرات کو سبوتاژ کرنے کے مترادف تصور کیا جائے گا۔ یہ بات زہن میں رہے کے یہ حقیقت ہے کہ شدت پسند ہتھیار ڈالنے پر کبھی بھی تیار نہ ہونگے لیکن اس کے بغیر ان سے مزاکرات کرنا یا ان کو معاشرے کے مجموعی دھارے میں شامل کرنا بھی ممکن نا ہوگا اور اگر کیا بھی گیا تو تباہ کن نتائج لے کر آئے گا۔ میرے خیال میں مزاکرات کا رستہ صرف اتمام حجت کے لیے استعمال ہو اور جو لوگ اس رستے سے واپسی آنا چاہیں انہیں خوش آمدید کہا جائے۔ 
اس کے بعد چونکہ صوبائی حکومت امریکی جنگ سے باہر آنے کا اعلان کرچکی ہے تو دہشت گردوں سے کسی بھی قسم کی رو رعایت نا برتی جائے اور ساتھ ہی میں حکومتی عمال کی مناسب اور موثر حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔ حکومتی نقصان حکومت کی کارکردگی میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے اس لیے اس کو کم سے کم کرنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ 

جاری ہے ۔