سوموار, مئی 20, 2013

پاکستان تحریک انصاف اور الیکشن ۲۰۱۳ ۔ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا ۔ دوسرا حصہ

2 تعلیم

تعلیم خیبر پختونخوا کی حکومت کے لیے دوسرا سب سے بڑا چیلنج ہوگا اسکی وجہ ایک تو صوبہ کی مخصوص صورتحال ہے دوسرا پی ٹی آئی کی انقلابی سوچ ہے جس نے پاکستان میں تعلیم کے بنیادی اصول کو تبدیل کرنے کا تہیا کیا ہے۔ 
صوبائی حکومت کے لیے سب سے اہم کام تعلیم کی مد میں خزانے کا منہ کھلوانا ہے۔ اس کے لیے ایک کام تو بجٹ کے دوران تعلیم کے لیے زیادہ پیسوں کا اجراء ہے دوسرا شاید کوئی نیا ٹیکس لگا کر وسائل پورا کرنا پڑے۔  
خیبر پختونخوا میں عورتوں کی تعلیم کو لے کر کچھ مسائل صوبائی حکومت کو درپیش ہونگے۔ لیکن اس کا ایک حل تو یہ ہے کے زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کے تعلیمی مدارس کھولے جائیں۔ گرلز کالجز اور ویمن یونیورسٹیوں کی زیادہ تعداد ہی مستقبل میں گرلز ہائی اور پرائمری اسکول کی کمی کو پورا سکتی ہے۔ عورتوں کی معیاری تعلیم پر توجہ دینے کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ غیر معیاری تعلیم اصل میں تعلیم کی کمی سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ معاشرے میں اس خیال کا بن جانا کے عورتوں کی تعلیم سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بہت حد تک غیر معیاری تعلیم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 
پی ٹی آئی نے سائنس اور باقی مضامین کے لیے مادری زبان کی شرط عائد کی ہے۔ اگرچہ کسی بھی معاشرے کی کامیابی کے لیے افراد کی تعلیم انکی اپنی زبان میں ہونا ضروری ہے لیکن میرے خیال میں پی ٹی آئی کو اس چیز کو مرحلہ وار لاگو کرنا چاہئے۔
اس کی سب سے اہم وجہ تو یہ ہے کہ دنیا میں وہ سارے ممالک جو تعلیم اپنے مقامی زبان میں دیتے ہیں جو کہ انیسویں صدی میں غلام رہنے والے ممالک کے علاوہ سبھی ہی ہیں وہ بھی انگریزی کو ایک رابطے کی زبان کے طور پر ضرور پڑھاتے ہیں۔ ان ممالک میں انگریزی پڑھانے کا معیار اتنا اچھا ہوتا ہے کے یہاں بچے چھوٹی جماعتوں سے ہی انگریزی فرفر بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ انگریزی پر یہ عبور انکو دنیا میں ابھرتی ہوئی مسابقت میں آگے رکھتا ہے تو اپنی مقامی زبان میں سائنسی اور دوسرے مضامین پڑھنے کی وجہ سے وہ ان اسباق کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اپنے ملک و قوم کے لیے باعث افتخار بنتے ہیں۔ جبکہ یہی چیز ہماری موجودہ تعلیمی سیٹ اپ میں نہیں پائی جاتی۔ ہمارا معیار تعلیم خاص طور پر ایلیمنٹری لیول پر بہت ہی برا ہے اور ہمارے بچے کافی دیر تک انگریزی پڑھنے کے باوجود بولنے اور اچھی طرح سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو تعلیمی انقلاب انگریزی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینے سے شروع کرنا ہوگا۔ کچھ سالوں کے بعد ہی وہ وقت آئے گا جب حکومت مادری زبان کا قانون لا سکتی ہے تاکہ ابھی جو پرائیویٹ ادارے تعلیم دے کر حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں وہ سلسلہ بھی درہم برہم نا ہوجائے۔ 
دوسری وجہ اس مرحلہ وار تبدیلی کی یہ ہے کہ یہ کام صرف ایک صوبہ میں نہیں کیا جاسکتا۔ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے وفاقی اداروں میں بھی نوکریاں کرنی ہوتی ہے اور انگریزی میں عبور کو گارنٹی کیے بغیر موجودہ سیٹ اپ کو تبدیل کرنا صوبہ کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ 
سکینڈے نیویا کی مثال اس معاملے میں بہت بہتر ہے جہاں اسکول جانے والا ہر طالبعلم انگریزی سے آشنا ہے۔ جبکہ دوسری طرف حال یہ ہے کہ یہاں طالبعلم  ماسٹر لیول کے تحقیقی مقالے بھی اپنی مقامی زبان میں لکھتے ہیں۔ 

تعلیم کو ہمارے ملک میں صرف اور صرف نصابی یا غیرنصابی کتابوں کے مطالعہ تک ہی محدود کردیا گیا ہے جو کہ تعلیم کا ایک مقصد یعنی علم کا حصول تو پورا کرتا ہے لیکن طالبعلم کو علم کی اصل روح یعنی علم کی پڑتال کرنے کی جستجو سے محروم رکھتا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت اگر تعلیم کے شعبے میں انقلاب کی خواہشمند ہے تو اس کے لیے طالبعلموں کے تبادلہ کے پروگرام ضرور بنانے ہونگے۔ تبادلوں کے یہ پروگرام صوبائی یا ملکوں کی سطح پر تو شاید ابھی ممکن نا ہو لیکن بین الاضلاع تبادلے کے پروگرام ضرور بنائے جاسکتے ہیں۔ جماعت نہم سے لے کر بارہویں جماعت تک کے طلباء کے لیے ایسے موقعے فراہم کیے جاسکتے ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر وہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں اپنی چھ ماہ سے ایک سال کی تعلیم پوری کرسکتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسے طلباء نا صرف تعلیم کے حصول میں زیادہ آگے بڑھتے ہیں بلکہ انکی شخصیت میں بھی اسکا مثبت اثر ہوتا ہے جوکہ انہیں نا صرف اچھا شہری بناتا ہے بلکہ یہ دوسروں کے مسائل کو بھی بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔

تعلیم کا بہتری کا زکر آتا ہے تو ساتھ ہی ملک میں پھیلے ہوئے مدارس کا زکر بھی ساتھ آتا ہے۔ یہ مدارس ملک کے طول و عرض میں موجود ہیں اور کسی بھی دوسرے تعلیمی مراکز کی طرح انکے بھی اچھے اور برے پہلو ہیں۔ ان مدارس میں بھی اسی طرح اصلاحات کی ضرورت ہے جس طرح باقی تعلیمی مراکز میں لیکن ان کا معاملہ باقیوں کی نسبت کافی حساس ہے۔ مدارس میں کسی بھی اصلاحات کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ انکے مقابل دوسرے تعلیمی مراکز کے تعلیمی معیار کو اتنا اونچا کر دیا جائے کہ ان مدارس کے پاس کوئی اور آپشن ہی موجود نا رہے سوائے اس کے وہ اپنے نظام اور نصاب پر نظر ثانی کریں۔ عوام اپنے بچوں کا وقت اور سرمایہ ایسے کسی نظام پر ضائع نہیں کریں گے جو ان کے بچوں کو مناسب تربیت نہیں دے سکتا۔ مدارس کے معاملے میں اس احتیاط کی بہت زیادہ ضرورت اس لیے بھی ہے کہ انکی ایک بڑی تعداد JUI کے پلیٹ فارم سے چلائی جاتی ہے اور پی ٹی آئی کے خلاف منفی پروپیگنڈا کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے جس سے ابھی بچنے کی ضرورت ہے۔

جاری ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: