Friday, July 21, 2006

ایمان

راہ میں لاکھ خش و خاک کے طوفاں آئیں

موجِ بےتاب کا ریلا ہی بہت ہوتا ہے



جانے تو کثرتِ تعداد کو کیا سمجھا ہے

شیر جنگل میں اکیلا ہی بہت ہوتا ہے





0 comments: