جمعہ, اگست 04, 2006

یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے

یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ خواں اس کے

اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے بحر وبر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے رھگذر تمہارے ہیں
یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے

اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میر کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو
یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے

یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنا گنوانا مت دولت یقیں لوگو
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو
یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے

میر کارواں ہم تھے اپنے روح کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے ان پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا
یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے

کوئی تبصرے نہیں: