Showing newest posts with label ورلڈکپ2007. Show older posts
Showing newest posts with label ورلڈکپ2007. Show older posts
Saturday, March 31, 2007
Sunday, March 25, 2007
ناک آؤٹ ورلڈکپ ۔ اس کا کچھ کرنا ہوگا؟
1992 کے ورلڈکپ کے بعد سے اب تک کرکٹ اور کرکٹ ورلڈکپ میں کافی تبدیلیاںہو چکی ہیں لیکن اب تک دوبارہ اتنا متوازن ٹورنامنٹ کا انتظام نہیں کیا جا سکا ہے۔ شاید آسٹریلیا میںمنعقد ہونے والے کسی ورلڈکپ میں ہی ایسا ہو سکے۔
جب اس (2007 کا) ورلڈکپ کا آغاز ہو رہا تھا تو اس طرح لگ رہا تھا جیسے کے یہ کرکٹ دیکھنے والوں کی اس شکایت کو پورا کر دے گا کیونکہ نا صرف اس میں سیمی فائنل اور فائنل میں ناک آؤٹ سسٹم کی وجہ سے ڈو آر ڈائ کا مرحلہ ہے بلکے سپر ایٹ کی صورت میں اس میں راؤنڈ رابن کا موقعہ بھی موجود ہے چنانچہ ہر ٹیم کے پاس اپنی برتری منوانے کے ایک سے زیادہ مواقع مو جود ہیں ۔ اگرچہ بیسٹ آف تھری فائنل کا آیڈیا بھی ایک عرصہ سے گردش میں ہے لیکن کرکٹ میچز کی طوالت ورلڈکپ کو پہلے ہی بہت طویل کر دیتی ہے چنانچہ تین فائنلز کا آیڈیا کوئ بہت پسندیدہ تحریک نہیں بن سکا۔
کرکٹکو بائ چانس کہا جاتا ہے لہٰذا ناک آؤٹ سسٹم ورلڈکپ کے شایان شان کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ایونٹ 4 سال بعد آتا ہے اور کسی کا ایک برا دن چار سال کی محنت پر پانی پھیر دے تو اس کو انصاف نہیں کہا جا سکتا۔
موجودہ ورلڈکپ میں پری سپر ایٹ مرحلہ میں ایک گروپ چار ٹیموں پر مشتمل ہے ۔ جس میں سے 2 ٹیمیں سپر ایٹ سیڈنگ میں سے ہیں ۔ اب جب ان دونوں کا میچ ہوتا ہے تو ایک نے ہارنا ہے اور یہاں پر ہارنے والی ٹیم کے لیے باقی دونوں میچز تقریبًا ناک آؤٹ بن جاتے ہیں ۔
انڈیا کی ٹیم بنگلہ دیش سے ہارنے کے بعد اب اس ہی مرحلہ میں ہے اور بنگلہ دیش اور برمودا کے میچ کا انتظار کر رہی ہے۔ انڈیا اور بنگلہ دیش کا میچ ایک ایسا ہی برا میچ تھا جس نے اس ورلڈکپ کی دلکشی کافی کم کر دی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر بنگلہ دیش سے دس مزید مقابلے کرالیں آپ انڈین ٹیم کے تو انڈیا آسانی سے نو میچ جیت لے گا ۔ لیکن ایک برا دن انڈیا کی چار سالہ محنت پر حاوی ہو چکا ہے۔
پاکستان کے ساتھ تو اس سے بھی برا ہوا (جو کے اب انڈیا کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ بنگلہ دیش برمودا کا میچ بارش کی نذر ہوتا نظر آرہا ہے) کیونکہ آئرلینڈ اور زمبابوے کا میچ پہلے ہی ڈرا ہو گیا تھا اور آئرلینڈ سے شکست نے پاکستان کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ ایک میچ کی وجہ سے دنیا کی نمبر 3 ٹیم کا ورلڈکپ سے باہر ہو جانا صرف پاکستان کرکٹ کے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے بلکہ اس ورلڈکپ کا انعقاد کرنے والوں کے لیے بھی ایک معاشی دھچکا ہے۔
آئ سی سی کو اس چیز پر غوروخوض کرنا ہوگا اور مستقبل میں اس طرح کے انتظامات کرنے ہونگے کے کرکٹ ورلڈکپ ایک فضول مشق نا بن کر رہ جائے۔ چمپینز ٹرافی اور ورلڈکپ صرف دو ہی ٹورنامنٹ ہیں جو کے آئ سی سی انتظام کرتی ہے اور ان کا بھی اس طرح کا حال کرکٹکے لیے کچھ زیادہ مناسب نہیں ہوگا۔
جب اس (2007 کا) ورلڈکپ کا آغاز ہو رہا تھا تو اس طرح لگ رہا تھا جیسے کے یہ کرکٹ دیکھنے والوں کی اس شکایت کو پورا کر دے گا کیونکہ نا صرف اس میں سیمی فائنل اور فائنل میں ناک آؤٹ سسٹم کی وجہ سے ڈو آر ڈائ کا مرحلہ ہے بلکے سپر ایٹ کی صورت میں اس میں راؤنڈ رابن کا موقعہ بھی موجود ہے چنانچہ ہر ٹیم کے پاس اپنی برتری منوانے کے ایک سے زیادہ مواقع مو جود ہیں ۔ اگرچہ بیسٹ آف تھری فائنل کا آیڈیا بھی ایک عرصہ سے گردش میں ہے لیکن کرکٹ میچز کی طوالت ورلڈکپ کو پہلے ہی بہت طویل کر دیتی ہے چنانچہ تین فائنلز کا آیڈیا کوئ بہت پسندیدہ تحریک نہیں بن سکا۔
کرکٹکو بائ چانس کہا جاتا ہے لہٰذا ناک آؤٹ سسٹم ورلڈکپ کے شایان شان کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ایونٹ 4 سال بعد آتا ہے اور کسی کا ایک برا دن چار سال کی محنت پر پانی پھیر دے تو اس کو انصاف نہیں کہا جا سکتا۔
موجودہ ورلڈکپ میں پری سپر ایٹ مرحلہ میں ایک گروپ چار ٹیموں پر مشتمل ہے ۔ جس میں سے 2 ٹیمیں سپر ایٹ سیڈنگ میں سے ہیں ۔ اب جب ان دونوں کا میچ ہوتا ہے تو ایک نے ہارنا ہے اور یہاں پر ہارنے والی ٹیم کے لیے باقی دونوں میچز تقریبًا ناک آؤٹ بن جاتے ہیں ۔
انڈیا کی ٹیم بنگلہ دیش سے ہارنے کے بعد اب اس ہی مرحلہ میں ہے اور بنگلہ دیش اور برمودا کے میچ کا انتظار کر رہی ہے۔ انڈیا اور بنگلہ دیش کا میچ ایک ایسا ہی برا میچ تھا جس نے اس ورلڈکپ کی دلکشی کافی کم کر دی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر بنگلہ دیش سے دس مزید مقابلے کرالیں آپ انڈین ٹیم کے تو انڈیا آسانی سے نو میچ جیت لے گا ۔ لیکن ایک برا دن انڈیا کی چار سالہ محنت پر حاوی ہو چکا ہے۔
پاکستان کے ساتھ تو اس سے بھی برا ہوا (جو کے اب انڈیا کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ بنگلہ دیش برمودا کا میچ بارش کی نذر ہوتا نظر آرہا ہے) کیونکہ آئرلینڈ اور زمبابوے کا میچ پہلے ہی ڈرا ہو گیا تھا اور آئرلینڈ سے شکست نے پاکستان کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ ایک میچ کی وجہ سے دنیا کی نمبر 3 ٹیم کا ورلڈکپ سے باہر ہو جانا صرف پاکستان کرکٹ کے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے بلکہ اس ورلڈکپ کا انعقاد کرنے والوں کے لیے بھی ایک معاشی دھچکا ہے۔
آئ سی سی کو اس چیز پر غوروخوض کرنا ہوگا اور مستقبل میں اس طرح کے انتظامات کرنے ہونگے کے کرکٹ ورلڈکپ ایک فضول مشق نا بن کر رہ جائے۔ چمپینز ٹرافی اور ورلڈکپ صرف دو ہی ٹورنامنٹ ہیں جو کے آئ سی سی انتظام کرتی ہے اور ان کا بھی اس طرح کا حال کرکٹکے لیے کچھ زیادہ مناسب نہیں ہوگا۔
Labels:
ورلڈکپ2007,
پاکستان,
کرکٹ
Friday, March 16, 2007
نہیں نہیں
بس جی آپ کو بھی اندازہ ہوگا کہ آج کل مندا چل رہا ہے۔
یونس خان اور نوید الحسن ۔ بے عزت کروا دیا
:( :( :(
یونس خان اور نوید الحسن ۔ بے عزت کروا دیا
:( :( :(
Labels:
ورلڈکپ2007,
کرکٹ
Tuesday, March 13, 2007
ورلڈکپ کی تیاری
آج کا دن ہیکٹک ترین دن تھا۔ صبح ویزا کے لیے جانا پڑا، وہاںلائن لگائ اور پاسپورٹ جمع کروا کر آگیا۔ اس کے بعد آفس میںکچھ اس طرحٹائم گزارا کے سب سمجھیںبڑا کام کر رہا ہے جبکہ درمیان میںسارا ٹائم فون پر ورلڈکپ دیکھنے کا پروگرام فائنل کرتا رہا۔ اور پھر اوتانیامی گیا جہاں شباب و کباب کی محفل جمنی ہے ۔ ہاہاہا
ورلڈکپ کا پروگرام کچھ یوں ہے کہ آج میںنے ملٹی میڈیا پروجیکٹر مومی کے گھر پہنچا دیا ہے اور ٹیسٹ بھی کیا ہے ( یوٹیوب کی ویڈیوز دیکھ کر)۔ وہاںپر سارے حسین و جمیل لڑکوںکو آنے کا حکم بھی دے دیا گیا (کچھ کھانے پینے کے سامان کے ساتھ) ہے اور دیکھنے کے لیے ہم نے دو 500 کے۔بی۔پی۔ایس کی سٹریمنگز لی ہیں۔ بیک اپ سمیت ۔۔۔۔۔۔
اب چلو سب دعا کرو کے پاکستان جیت جائے۔ ٹھیک؟
Labels:
ورلڈکپ2007
Subscribe to:
Posts (Atom)

