اتوار, فروری 15, 2009

Iftikhar yad aaey ga (افتخار یاد آئے گا )

پچھلے سال میں جون کے مہینے میں پاکستان میں تھا جب  وکلاء نے اپنا پہلا لانگ مارچ ترتیب دیا۔  میں نے اپنی موجودگی کو غنیمت جانتے ہوئے اس میں شرکت کرنے کا ارادہ کیا اور حسن رحمان کو مشورے سے فاسٹ نیشنل یونیورسٹی جو کہ میری اپنی یونیورسٹی ہے سے اس میں شامل ہوا۔
اگرچہ یہ ایک کافی دلچسپ سفر ثابت ہوا پر شریف وکلاء کے آخری فیصلے نے خوشی کو گہنا سا دیا۔
اس سفر کی میرے لیے اچھی باتوں میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے چند نئے دوست بنائے جن میں زیشان رانا عرف مولانا خاص طور پر قابل زکر ہے۔ زیشان اور عمر سلیمان کے ساتھ مل کر میں نے چند پیروڈیز بنائیں تھیں جن میں سے صرف ایک علی ناطق کےموبائل ویڈیو کی وجہ سے محفوظ ہو سکی اور باقی سب ہم ریکارڈ نہیں کر سکے۔ کتنے افسوس کی بات ہے ۔ چچچ
اب وکلاء نے پھر لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے جس میں اس دفعہ دھرنا بھی شامل ہے لیکن میں پاکستان نہیں جا سکتا کیونکہ ابھی اتنی چھٹیاں نہیں ہیں۔ چنانچہ اب میں صرف دعا ہی کرسکتا ہوں کہ اللہ زرداری کو عقل دے کہ وہ ڈوگر کو دھکا دے ۔۔
ہاں کل میں نے ایک نیا کام یہ کیا اپنے پا مہدی حسن کے ایک پورے گانے کی پیروڈی بنادی ہے۔ زرا پڑھو یہاں ۔ بلکہ ٹھہرو میں نے آسانی کے لیے اس اپنی آواز میں یوٹیوب پر بھی پہنچا دیا ہے۔ مجھے ہمیشہ سے ترنم سے پڑھنے والے شاعر پسند ہیں چنانچہ ترنم بی بی بھی کو زحمت دی ہے ۔ ہاہا

عوام کے نام۔
جب کوئی مارشل لاء لگائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا
جب کوئی مارشل لاء لگائے گا
تم کو 'اف تخار' یاد آئے گا
جب کوئی مارشل لاء لگائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا

لذت بم سے آشناء ہو کر
پر امن دور سے جدا ہو کر

لذت بم سے آشناء ہو کر
پر امن دور سے جدا ہو کر
کوئی بھی جب امن نا پائے گا
کوئی بھی جب امن نا پائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا
جب کوئی مارشل لاء لگائے گا
تم کو 'اف تخار' یاد آئے گا

جب کوئی مارشل لاء لگائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا

تیرے لب پہ نام ہوگا افتخار کا
ڈوگر دیکھ کرجلے گا دل تیرا

تیرے لب پہ نام ہوگا افتخار کا
ڈوگر دیکھ کرجلے گا دل تیرا
جب  کوئی   ڈاکٹر بن نا پائے گا
جب  کوئی   ڈاکٹر بن نا پائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا
جب کوئی مارشل لاء لگائے گا
تم کو 'اف تخار' یاد آئے گا
جب کوئی مارشل لاء لگائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا

لاپتوں کے درد کو سہوگے تم
بوگس الاٹمنٹ دیکھتے رہوگے تم

لاپتوں کے درد کو سہوگے تم
بوگس الاٹمنٹ دیکھتے رہوگے تم
سٹیل مل جب کوئی بچا  نا پائے گا
سٹیل مل جب کوئی بچا  نا پائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا
جب کوئی مارشل لاء لگائے گا
تم کو 'اف تخار' یاد آئے گا
جب کوئی مارشل لاء لگائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا



اچھا اب جن کو یہ پسند آئے وہ اس کو آگے فارورڈ کردے آج شام سے پہلے انشاءاللہ مجھے خوشی ملے گی۔

8 تبصرے:

Mawra کہا...

ماشااللہ۔۔ بہت خوب۔ کیا ترنم سے گانا گایا ہے۔ میرا تو دل ہے یہ افتخار چوھدری کو میل کر دو۔۔وہ ساری لانگ مارچ میں اسی آواز کو اونچی آواز میں لگا دیں۔ ہر طرف اعجاز اعجاز ہو جائے گی۔۔ واہ واہ۔۔:D

SYED ALI کہا...

Good work ejaz bahii.. Yahii dua haa k zardarrii ko aqal aa jaye aur dogar ko dhaka lag jaye...

Bilal Altaf کہا...

ap sub ki bhool hai kay zardari ko aqal ay, aur CJ will not be reinstated...laikin Aijaz is right, Iftikhar zarur yad ay ga whenever there is a martial law which we may see atleast another one in our lifetime...
lets hope to see a long march against Taliban also...

Pakistan zindabad

Abdul Basit کہا...

Nice one. :)

and 100% true

Mawra کہا...

وینس پر بلاگ آ گیا ہے آپ کا۔۔۔ اب باقاعدگی سے لکھنا شروع کر دیں۔

Zeeshan Ali Rana کہا...

bohut khoob aijaz, bohut khoobsoorat nazm likhi hai aur bari yaad dilayee hai long march ki...

Allah iss long march ko bhi pur aman rakhnay mein, aur maqasid haasil kernay mein madad karay. aameen.

ps: aur haan mera tazkara kernay ka bohut shukriya :)

jazoo scenario کہا...

ماورا ۔ باقاعدگی ہی سے تو لکھتا ہوں۔ باقاعدگی سے کئی مہینوں کے بعد ۔۔
:)

@zeeshan
yo, that was a good effort by people of pakistan and luckily we were part of it :)
you are even luckier that you can again be part of it in a decisive time ..I wish I was there again :|

May allah help you.

Omair Sajid کہا...

bhai aloo good poem